کے مقالات کے محور اور موضوعات
تاریخ انتشار : 4/29/2017
دوباره دیکهنا : 620

مقالات لکھنے میں آسانی کی خاطر کانگریس نے علمی کمیٹیز کےتوسط سے خاص محور اور موضوعات معین کیے  ہیں۔ البتہ مقالات کے موضوعات اسی میں محدود نہیں ہیں بلکہ مضمون نویس دوسرےموضوعات  پرجو کانگریس کے اہداف اور محور کے مطابق ہوں مقالات لکھ سکتے ہیں۔

اول:عام محور

1. کانگریس میں علوم اور مضامین کے محور

1ـ قرآنیات (تفسیر ـ  قرآنی علوم ـ ترجمه قرآن و ...)          

2ـ حدیث (رجال ـ درایه ـ فقه الحدیث و ...)

3ـ فقه و اصول

4ـعلم  کلام

5ـ ادب (لغت ـ نحو ـ صرف و ...)

6 ـ عقلی علوم(منطق ـ فلسفه و ...)

7ـ اخلاقیات، تربیت اور عرفان

8 ـ تاریخ او رجغرافیہ

9ـ ہیومنٹیز(سیاست‌ ـ منجیمنٹ ـ و ...)     

10ـ طبیعیات(نجوم ـ طب و ...)

2. بنیادی خطوط

الف: اہل بیت  (علیهم السلام) کی سیرت ہر علم  کا سرچشمہ

ب:  ہر محور کی پیدائش اور وسعت میں شیعہ علماء کا کردار

 

 

ذیلی محور

۱۔بنیادی  علم

۲۔ ذیلی علوم

۳۔جدید مضامین اور شعبہ جات

۴۔ایجادات(جدید اسلوب  وغیرہ)

۵۔صنعت اور ہنر

۶۔شخصیات

۷۔تعلیمی اور تحقیقی مراکز

۸۔ لائبریریاں

۹۔ روایتی سرگرمیاں(حفظ وغیرہ)

۱۰۔ جدید سرگرمیاں (سوفٹ وئیر،  سوشل میڈیا اور میگزینز)؎

۱۱۔نایاب کتب اور قلمی نسخے

۱۲۔ اشعار اور نظم

۱۳۔جغرافیائی حدود اربعہ اورمختلف  ممالک

 

قوانین

۱۔موارد کو  مآخذ اور مصادر کے ساتھ ذکر کیا جائے۔

۲۔ وہ علمی شخصیات  جن کے  شیعہ یااہل سنت  ہونے میں تردید ہو  اس کامعیار، شہرت  یا مستند حوالہ جات ہیں۔(اگرچہ   شیعہ ہونا غیر معروف قو ل ہی کیوں نہ ہو۔)

۳۔ہر موضوع بارے ممکن حد تک مصادیق اور نمونے پیش کیے جائے۔

۴۔ سائنسی علوم    میں وسعت اور معاصرمفاخر  کتب  کی تالیف میں  شیعہ کردار کی طرف اشارہ کیا جائے۔

۵۔ اس کانگریس میں  شیعہ اثناعشری  مد نظر ہیں البتہ   دوسرےشیعہ  فرقوں کے کتب کی جانب اشارہ کیا جائے گا۔

3.  تالیف کتاب کے  تجویز کردہ محور

1. شیعہ  مفسرین

2. شیعہ قرآنی  مترجمین

3.  قرآنیات بارے شیعوں کے اہم آثار

4. شیعہ محدثین

5. نایاب شیعہ  کتب حدیث 

6. شیعہ فقہاء

7. اہم شیعہ حقوقی اور فقہی  کتب

8. شیعہ متکلمین

9. اہم شیعہ  کلامی کتب

10. شیعہ ادیب

11.اہم  شیعہ ادبی کتب

12. شیعہ اور علم فلسفہ

13. عقلی  علوم میں شیعہ نایاب کتب

14. اہم شیعہ تاریخی مصادر و مآخذ

15.  شیعه منجمین

16. شیعه نجومی کتب

17. شیعہ طب کے ماہرین

18.  شیعہ طب کی کتب

19. شیعہ علم اخلاق کے اساتید

20. اخلاقی اور تربیتی کتب

21. شیعہ عرفاء

22. شیعہ عرفانی کتب

23. شیعہ سیاستدان اور مدیر

24. سیاسیات اور منجمینٹ کتب

25. شیعہ علمی مراکز (دینی  مدارس، لائبریریاں ، یونیورسٹیز، ریسرچ انسٹیٹوٹ)

26.  انقلاب اسلامی ایران کے بعد جدید علمی سرگرمیاں (  سائنسی علوم، نینو، جوہری پروگرامز، سٹیم سیلز،  سائبرو غیرہ.)

27. شیعہ شہید علماء

28. شیعہ مجاہد علماء

29.شیعہ  معمار اور مشہور ہنر مند علماء

30. شیعہ دانشور خواتین

31.  جغرافیائی لحاظ سے شیعہ آبادی( صدر اسلام سے اب تک)

32.  شیعوں کی پہچان (مفهوم، آغاز تشیع وغیرہ )

دوم:خاص  محور

1. قرآن

الف) اهل‌بیت(علیهم السلام)  اور علم تفسیر

1ـ تفسیر اور قرآنی  علوم میں اهل بیت(علیهم السلام) کی علمی مرجعیت

2ـ تفسیر اور  قرآنی علوم میں امام علیؑ کا کردار

3ـ تفسیر اور  قرآنی علوم میں امام سجادؑ کا کردار

4ـ تفسیر اور  قرآنی علوم میں امام صادقؑ کا کردار

5ـ تفسیر اور  قرآنی علوم میں امام رضاؑ کا کردار

6ـ فقہ القرآن کی پیدائش اور ترویج میں اہل بیتؑ کا کردار

7ـاصحاب اور تابعین کے درمیان علم تفسیر کی پیدائش اور ترویج میں اہل بیتٍٍؑ کا کردار

8ـ اہل بیتؑ سے منسوب تفسیری میراث ( مصحف امام علیؑ، تفسیرامام حسن عسکریؑ وغیرہ)

 9. اہل بیت ؑکے اصحاب کی تفسیری میراث اور علم تفسیر پر ان کے اثرات (سعید بن‌جبیر ، مسیب، ابوحمزه ثمالی، یونس بن عبدالرحمن، حسین بن سعید اهوازی، ابان بن تغلب)

10-اہل سنت تفاسیر میں  اہل بیت کی تفسیری روایات کی منزلت

(درج ذیل تفاسیر میں  ( اهل‌بیت(علیهم السلام)  سے منقول  روایات :تفسیر  کشف الاسرار ، تفسیرطبری، تفسیر ابن‌کثیر و غیرہ )

ب) اهل‌بیت(علیهم السلام)  او ر قرآنی علوم

1ـ   اهل‌بیتٍٍؑ کی احادیث  میں قرآنی علوم کا بیان اور اہل سنت آراء پر اس کے اثرات

۲۔اصحاب کے درمیان   قرآنی علوم کی بنیاد    اور ترویج میں اہل بیتٍٍؑ کا کردار  نیز تابعین کے دور میں اہل بیتؑ کا کردار جو   کہامام علیٍؑ، امام حسنٍؑ، امام حسینٍٍؑ، امام سجادؑ، امام باقرؑ، امام صادقؑ، امام کاظمؑپر مشتمل ہے۔

3ـامام سجادؑ کی دعاؤں  میں قرآنی معارف کی ترویج

ج) شیعه اور  قرآنی علوم

1ـ شیعہ قرآنی علوم کے مصادر

  2-  شیعہ  قرآنی علوم کے نایاب  نسخے (محکم و متشابه سید مرتضی، ابن شهر آشوب و ...)

3ـ قرآنیات پر شیعہ  تحقیقات ( قرآنی علوم، اسلوب اور رجحانات، مبادی، قواعد وغیرہ)

4ـ شیعہ تفاسیر میں قرآنی علوم

5ـ شیعہ علماء اور تحریف قرآن کی مخالفت

6ـفقہ القرآن میں شیعہ کردار

7ـعلم نسخ میں  شیعہ کردار

8ـ محکم اور متشابہ میں شیعہ کردار

9ـ  اعجاز قرآن  کی  ترویج اور پھیلاؤمیں شیعہ کردار  

10ـ اسباب نزول میں شیعہ کردار

11ـ مبانی اور قواعد تفسیر میں شیعہ کردار

12ـ تفسیری اسلوب اور رجحاناتمیں شیعہ کردار

13ـ تاریخ قرآن میں شیعہ کردار

14ـ علم قرائات میں شیعہ کردار

15ـ جمع القرآن    میں شیعہ کردار

16ـ  قرآنی مفردات  میں شیعہ کردار

17ـتفسیر اور قرآنیات میں معاصر شیعہ علماء کے جدید نظریات اور تصنیفات

18ـقرآن پر   اعتراضات اور اس کے دفاع میں شیعہ کردار

19ـ شیعہ شعراء کے اشعار میں قرآنی ثقافت

20.شیعوں کے درمیان قرآن کی  تنسیخ اور اشاعت

21ـشیعوں کے درمیان قرآنی  قلمی نسخے

22ـ مختلف ممالک میں شیعہ   نامعلوم تفسیری میراث

23. اہل سنت دانشوروں کے نزدیک شیعہ  قرآنی  اور تفسیری  مسودات منجملہابن‌ندیم

24ـ شیعہ  تفسیری قدیمی نسخے

د)شیعہ تفسیر اور مفسرین    

1ـعلم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر تبیان کا کردار

2ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر مجمع البیان کا کردار

3ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر روض الجنان کا کردار

4ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر منہج الصادقین  کا کردار

5ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر صافی کا کردار

6ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر من وحی القرآن کا کردار

7ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر  من ہدی القرآن کا کردار

8ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر المیزان کا کردار

9ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر نمونہ کا کردار

۱۰۔ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر مخزن العرفان کا کردار

11ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر تسنیم کا کردار

12ـ علم تفسیر اور قرآنی علوم کی وسعت میں تفسیر الجوہر الثمین  کا کردار

13ـ  شیعه ادبی تفاسیر، شیعہ عرفانی تفاسير ، شیعه فقہی تفاسیر، شیعہ اجتہادیتفاسیر  و ...

14ـشیعوں کی   غریب القرآن اور معانی القرآن   بارے تالیفات

15۔ شیعہ موضوعی تفاسیر (پیام قرآن،   آیت‌الله جوادی کی موضوعی تفسیر، منشور جاوید اور مفاهیم قرآن، آیت‌الله مصباح کی  تفسیرمعارف قرآن)

16ـ دور حاضر میں  قرآنی سرگرمیاں  (مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس وغیرہ)

2. علوم حدیث

الف)  علم حدیث

1.علو م حدیث کی پیدائش اور ترویج میں اہل بیتؑ کا کردار

2. فقہ الحدیث اور فرعی شعبوں کی پیدائش میں شیعہ کردار، (جیسے:مشکل‌الحدیث و غریب‌الحدیث )

3. پیدائش اور وسعت  علم تجزیہ و تحلیل   متن حدیث   اور سند حدیث   میں  شیعہ کردار

4. جوامع حدیث کی پیدائش اور وسعت میں شیعہ کردار

5. علم رجال اور سند شناسی میں شیعہ کردار

6.  علم درایہ اور علوم حدیث کی پیدائش اور وسعت میں شیعہ کردار

ب) تاریخی مباحث

1. اہل بیت ؑ کی موجودگی  میں اسلامی علوم کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ کردار

2. متقدم محدثین کے دور میں علوم اسلامی کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ کردار

3. متاخرمحدثین کے دور میں علوم اسلامی کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ کردار

۴۔  دور  حاضر میں علوم اسلامی کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ کردار

5. مکاتب  حدیث اور احادیث کے  مراکزکی تشکیل  میں شیعہ کردار

۶. حدیثی مدارس  کی پیدائش میں شیعہ کردار (الف: خراسان ب: کوفه ج: قم)

ج) شیعه راوی اور حدیثی شخصیات

۱سلامی علوم کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ محدثین اور راویوں کا کردار  بالخصوص متن محور علوم: اخلاقیات، عقاید، فقہ اور اصول، عرفان اور تاریخ وغیرہ۔

۲۔  ہیومینٹز اور اسلامی علوم کی پیدائش  اور ترویج میں  شیعہ  شخصیات اور علمی مراکز کا کردار 

۳۔ ہیومینٹز اور اسلامی علوم کی پیدائش   میں شیعہ محدثین اور مؤلفین کے نئے اسلوب  اور طریقہ کار کے اثرات ( جیسےنفسیات،  سماجیات،  فن تعمیر، میڈیکل وغیرہ)

د)  بقیہ امور

۱۔  کتب ادعیہ کی تدوین میں شیعہ علماء کا کردار اور ان کےاہل سنت ادعیہ جات پر اثرات

۲۔ فارسی ادب میں شیعہ احادیث کا کردار

۳۔ کتابت حدیث میں شیعہ  کاکردار

۴۔مشکل احادیث کے جائزہ میں شیعہ کا کردار

۵۔  اہل سنت مصادر حدیث میں  نقل  احادیث نبوی میں شیعہ  راویوں کا کردار

هـ)دور حاضر میں شیعہ حدیثی سرگرمیاں(مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس ...)

 

3. فقه اور اصول

۱۔ شیعہ فقہ کی خصوصیات اور امتیازات

۲۔ شیعہ  اصول فقہ کی خصوصیات اور امتیازات

۳۔ شیعہ فقہ کی سٹرکچر اور درجہ بندی

۴۔ شیعہ فقہی مکاتب

5۔  شیعہ فقہاء کا دور حاضر کی ضروریات اور جدید مسائل  کے جوابات

۶۔ شیعہ فقہی نظریات کا نفی ظلم اور استعمار میں کردار

۷۔ تقابلی فقہ کی تدوین میں شیعہ علماء  کا کردار

۸۔تقابلی اصول فقہ کی تدوین میں شیعہ علماء  کا کردار

۹۔ ہیومنٹیز میں شیعہ فقہ کا کردار( مبادی،  فروعات، مسائل وغیرہ)

۱۰۔ شیعہ فقہ کےدوسرے اسلامی علوم پر اثرات(علم کلام، فلسفہ، تفسیر وغیرہ)

۱۱۔ حکومت اور حکمرانوں  کو  مفاسدسے روکنے میں   شیعہ فقہاء کا   معاشرتی کردار

۱۲۔صدر اسلام سے  دور حاضر تک تعارف نظام تعلیم  فقہ و اصول  اور اس کی تکمیل میں  شیعہ  کا کردار

۱۳۔ علم اصول کی ترویج میں اہل بیتؑ کے اصحاب کا کردار

۱۴۔ علم فقہ کی ترویج میں اہل بیتؑ کے اصحاب کا کردار

۱۵۔ علم  فقہ کی پیدائش اور ترویج  میں اہل بیتؑ کا کردار( جیسے:علم فقہ کی ترویج میں امام علیؑ کا کردار، علم فقہ کی ترویج میں امام باقرؑکا کردار، علم فقہ کی ترویج میں امام صادقؑ کا کردار،اور دوسرے اماموںؑ کا کردار)

۱۶۔ دور حاضر میں شیعہ علماء کی فقہی اور اصولی سرگرمیاں (مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس ...)

4. علم کلام اسلامی

علمکلام اسلامی کی تاسیس، تصحیح اور ترویج میں اہل بیتؑ کا کردار

۲۔  توحید ی تعلیمات اور اسلامی عقیدے کی تعلیم  میں اہل بیتؑ اور شیعہ متکلمین کا کردار

۳۔علم کلام اسلامی کی تاسیس اور ترویج میں شیعہ کلامی مکاتب اورمدارس  کا کردار

۴۔ دینی اور مذہبی عقیدے کی تصحیح میں شیعہ متکلمین کا کردار

۵۔علم کلام اسلامی اور اسلامی فلسفہ کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ کلامی میراث  (آل‌بویه، حمدانیان، صفویه، مرعشیان، فاطمیان، قاجار یہ و ...) کا کردار

۶۔علم کلام اسلامی کی ترویج میں شیعہ علمی خاندان  (آل نوبخت، آل کاشف الغطاء،آل صدر و... ) کا کردار

۷۔ اسلامی تہذیب و تمدن کی ترویج میں علم کلام اور شیعہ متکلمین کا کردار( موثر مدارس )۔

۸۔ اقسام علم کلام : سیاسی علم کلام(ولایت فقیہ)، عرفانی علم  کلام اور اجتماعی علم کلا م کی پیدائش  میں شیعہ متکلمین کا کردار

۹۔شیعہ کلامی  جدید نظریات  کا تعارف( مختلف  تاریخی ادوار ، علم کلام کے مسائل، تالیفات، اسلوب اور سٹرکچر)۔

۱۰۔شیعہ خاص تعلیمات  و نظریات کی وضاحت( امامت، بداء وغیرہ)۔

۱۱۔جدید کلامی مباحث ( فطرت کے بارے شیعہ نظریے کا بیان اور کلام  اسلامی میں اس کا کردار)

۱۲۔شیعہ مؤثر متکلمین کا تعارف

۱۳۔دوسرے کلامی مکاتب  پر شیعہ علم کلام کے اثرات

۱۴۔شیعہ کلامی  انسائیکلوپیڈیاکا تعارف،  جیسے:آیت اللہ سبحانی کی کتاب طبقات المتکلمین ۔

۱۵۔ دور حاضر میں علم کلام اور کلامی  مباحث   کی تحقیقی امورکا تعارف

۱۶۔کلامی افکار ، دور حاضر کی کتب اورشخصیات کا  تعارف(دینی مدارس و مراکزعلمی : نجف، قم، اصفهان، تهران ، مشهد، تبریز، لبنان، بحرین و ...)۔

۱۷۔شیعہ علم کلام  بارے  مستشرقین   کی کتب کا تجزیہ و تحلیل(میڈونگ ۔۔۔)۔

۱۸۔دور حاضر میں شیعہ علم کلام کی سرگرمیاں(مراکز، مضامین،  میگزینز، سائٹس وغیرہ۔۔۔)

 

5. تاریخ اور جغرافیہ

۱۔ احادیث اہل بیت ؑمیں مباحث تاریخی  اور علم تاریخ کے پھیلا ؤمیں اس کے اثرات

۲۔شیعہ ادبی مصادر کا علم تاریخ میں کردار(حکایات، منآت، اوائل، امالی) ۔

۳۔یہود اور نصاری کے  تاریخی  اعتراضات   اور شبہات کے جوابات کی تدوین میں شیعہ کا  کردار

۴۔علمی  مراکز بالخصوص دینی مدارس کی تاریخ کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۵۔نظریات تاریخی، تاریخ نویسی اور   تاریخی اسلوب میں شیعہ  کاکردار

6.تاریخی مصادر کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۷۔انبیاء اور گذشتہ امتوں کی تاریخ کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۸۔دنیائے   اسلام  اور عمومی   تاریخی مصادر  کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۹۔سیرت اور تاریخ نبوی کی تدوین  میں شیعہ کا کردار

۱۰۔ سیرت اور تاریخ  اہل بیت (علیہم السلام)  کی تدوین میں شیعہ  کاکردار

۱۱۔ تاریخ غدیر کی تدوین میں شیعہ کردار

۱۲۔تاریخ اور سیرت حضرت زہراؑ کی تدوین میں شیعہ  کاکردار

۱۳۔تاریخ عاشورا اور کتب مقاتل  کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۱۴۔شیعہ تاریخ کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۱۵۔ موروثی(سلسلہ حکومت) کی تاریخ کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۱۶۔ مقامی اور جغرافیائی تاریخ سے مربوطہ مصادر کی تدوین میں  شیعہ کردار

۱۷۔رجالی شیعہ ،مصادر کا علم تاریخ میں کردار

۱۸۔سوانح حیات کی تدوین میں شیعہ کا کردار

19۔ سلسلہ انساب  کی تدوین میں شیعہ  کاکردار

۲۰ ۔مزارات سے مربوطہ مصادر کی تدوین میں شیعہ  کردار

۲۱۔اسلامی فرقے، اقوام ، قبائل   اور شیعہ فرقوں سے مربوطہ مصادر کی تدوین میں شیعہ کا کردار

۲۲۔دور حاضر میں شیعہ تاریخی سرگرمیاں،( علمی مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس)۔

۲۳۔شیعہ تاریخی سرگرمیاں(سوفٹ وئیرز، مضامین، مراکز وغیرہ)۔

24.  شیعه مؤرخین

25. شیعہ دینی  مدارس کی تاریخ

۲۶۔اہم شیعہ تاریخی مصادر

۲۷۔ مصادر کی تدوین میں شیعہ کا کردار

6. عقلی علوم

 

الف) شیعہ فلاسفراور فلسفیانہ مکاتب کی ایجاد

۱۔ فلسفہ اور منطق میں جدید نظریات اور ابن سینا کا  شیعہ فلاسفر کے حوالے سےتعارف

۲۔ فلسفہ اور منطق میں جدید نظریات اور  فارابی  کا  شیعہ فلاسفر کے حوالے سےتعارف

۳۔ فلسفہ اور منطق میں جدیدنظریات اور  خواجہ  نصیرکا  شیعہ فلاسفر کے حوالے سےتعارف

۴۔ فلسفہ اور منطق میں جدید نظریات اور  شیخ اشراق کا  شیعہ فلاسفر کے حوالے سےتعارف

۵۔فلسفہ اور منطق میں جدید نظریات اور  ملا صدرا کا  شیعہ فلاسفر کے حوالے سےتعارف

۶۔ قم کے فلسفی  منطقی مکتب کا تعارف اور اس مکتب کے  جدید نظریات

۷۔ اصفہان کے فلسفی  منطقی مکتب  کا تعارف اور اس مکتب کے   جدید نظریات

۸۔ تہران کے فلسفی  منطقی مکتب کا تعارف اور اس مکتب   کے جدید نظریات

۹۔ شیراز کے فلسفی  منطقی مکتب کا تعارف اور اس مکتب   کے جدید نظریات

۱۰۔ نجف کے فلسفی  منطقی مکتب کا تعارف اور اس مکتب کے  جدید نظریات

 

 

 

ب) شیعہ تعلیمات کا فلسفیانہ افکارکے  کمال اور رشد میں کردار
۱۔ فلسفیانہ خدا شناسی کے کمال  اور رشد  میں شیعہ تعلیمات کا کردار   
۲۔معاد شناسی کے کمال اور رشدمیں شیعہ تعلیمات کا کردار
۳۔ انسان شناسی کے کمال اور رشدمیں شیعہ تعلیمات کا کردار  
۴۔ معرفت شناسی کے کمال اور رشدمیں شیعہ تعلیمات کا کردار  
ج) دینی تعلیمات میں فلسفیانہ افکار

1. نہج البلاغہ میں فلسفیانہ تعلیمات

۲۔امام رضاؑ کی احادیث میں فلسفیانہ تعلیمات

۳۔اہل بیتؑ کے احتجاجات میں فلسفیانہ تعلیمات

د)دینی تعلیمات کی تفسیر اور توضیح  میں فلسفیانہ  افکار کا کردار

۱۔ شیعہ مکتب فلاسفہ کے خدا شناسی پر اثرات

۲۔ شیعہ فلسفیانہ علم النفس کے مکاتب کا معاد شناسی پر اثرات

۳۔ وحی اور نبوت کی تشریح  اور وضاحت میں فلسفیانہ افکار کے اثرات

۴۔ تفسیر قرآن میں فلسفیانہ افکار کے اثرات

هـ)شیعہ فلاسفروں کی فلسفیانہ  افکار کی ترویج میں کردار

۱۔فلسفیانہ علم شناخت کائنات کی   وسعت و ترویج  میں شیعہ  فلاسفروں  کا کردار

                                        الف: مکتب مشاء  ب: مکتب اشراق؛ ج: حکمت متعالیه

2. فلسفیانہ معرفت شناسی کی   وسعت و ترویج میں شیعہ فلاسفروں   کا کردار

                                        الف: مکتب مشاء     ب: مکتب اشراق؛ ج: حکمت متعالیه

۳۔ فلسفیانہ علم  النفس کی  وسعت و ترویج میں شیعہ  فلاسفروں   کا کردار

                                        الف: مکتب مشاء    ب: مکتب اشراق؛ ج: حکمت متعالیه

 

۴۔ فلسفیانہ  الہیات کی وسعت و ترویج میں شیعہ فلاسفروں   کا کردار

                                        الف: مکتب مشاء؛ ب: مکتب اشراق؛ ج: حکمت متعالیه

۵۔ علم منطق کی  وسعت و ترویج میں شیعہ  فلاسفروں  کا کردار

و) بقیہ امور

۱۔ فلسفی  اسلوب کی شناخت میں شیعہ کا کردار

۲۔ شیعہ  عقلانی نمونوں کی وضاحت

۳۔ شیعہ عقل پسندی  کے ادوار( پیغمبرﷺ کے دور سے غیبت کبری تک)

۴۔عالم تشیع میں فلسفیانہ مکاتب کے  ادوار

۵۔اسلامی تہذیب و تمدن میں فلسفیانہ افکار کے اثرات

۶۔شیعہ فلاسفروں کے  بین الاقوامی فلاسفروں پر اثرات

۷۔مکتب مشاء میں شیعہ فلاسفروں کے مکتوبات

۸۔ مکتب  اشراق اور حکمت متعالیہ میں شیعہ فلاسفروں کی کتب

۹۔دور حاضر میں شیعہ  فلاسفر اور اہل منطق  کی سرگرمیاں( علمی مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس۔۔۔)

7. اخلاقیات، تربیت اور عرفان

الف)اسلامی علم عرفان

۱۔اسلامی علم عرفان کی پیدائش میں اہل بیت ؑ کا کردار

۲۔شیعہ کتب احادیث میں امام علیؑ کی عرفانی تعلیمات

۳۔شیعہ عرفان کے  عناصر(شریعت پسندی، اعتدال پسندی، عقل پسندی، سماجی نقطہ نظر۔)

۴۔ پانچویں صدی تک اسلامی عرفان میں شیعہ روایات کا  وار دہونا

۵۔ اسلامی عرفانی نظام تعلیم میں  قواعد التوحید اور تمہید القواعد کا مقام

۶۔ اسلامی علم عرفان کی ترویج میں امام خمینیؒ کا کردار(افکار، کتب،  سماجی اور ثقافتی اثرات)

7. اسلامی  علم عرفان کی ترویج میں علامہ طباطبائیؒ کا کردار(افکار، کتب،  سماجی اور ثقافتی اثرات)

8. اسلامی علم عرفان کی ترویج میں سید حیدرؒ کا کردار(افکار، کتب،  سماجی اور ثقافتی  اثرات)

9.  معاشرتی    اصلاحی تحریکوں میں شیعہ عرفاء کا کردار

۱۰۔ دورحاضر کے عرفاء کی تربیت میں سید علی قاضیؒ کا کردار

۱۱۔ عقل کی روشنی میں  عرفانی تعلیمات اور جدید  علم عرفان پر اس کے اثرات میں صدر المتالھین شیرازی کا کردار

۱۲۔نجف اشرف کا عرفانی مکتب( شخصیات، تعلیمات، کتب)

۱۳۔     کاذب  عرفان ا ور عرفانی انحرافات سے مقابلہ میں شیعہ عرفاء کا کردار

۱۴۔نظریاتی   عرفان میں شیعہ عرفانی مآخذ  کی شناخت

۱۵۔عملی  عرفان میں شیعہ عرفانی  مآخذکی شناخت( عرفانی  ادب، عرفانی تفاسیر)

۱۶۔ عبادت کے اسرار   میں شیعہ عرفانی  مآخذکی شناخت

۱۷۔ شیعہ عرفانی   شخصیات (  جیسے: نور اللہ  شوشتری صاحب  مجالس المؤمنین)

۱۸۔عالم تشیع کے عرفانی مراکز اور انسٹیٹوٹس کا تعارف

۱۹۔ عرفانی سائٹس اور سوفٹ ویئرز کا تعارف

۲۰۔اسلامی علم عرفان  کے  انسائیکلوپیڈیا  کا     تعارف

۲۱۔ صوفیانہ انحرافات کا جائزہ

۲۲۔ اسلامی عرفان اور شیعہ افکار  کا تقابلی جائزہ

۲۳۔ توحیدی اخلاق میں علامہ طباطبائی کا نظریہ

۲۴۔ دور حاضر میں عرفانی سرگرمیاں(علمی مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس)۔

ب) اخلاقیات اور تربیت

۱۔ خاندانی تربیت  بارے   عالم تشیع کے ریسرچ انسٹیٹوٹ   سے آگاہی

۲۔عالم تشیع کے اہم اخلاقی تربیتی مصادر کی شناخت

۳۔ شیعہ دانشوروں کے اخلاقی تربیتی نظریات اور کتب کا تعارف(حالات و شرائظ کے مطابق)

۴۔فیض کاشانی ؒکی اخلاقی تربیتی کتب کا تعارف

۵۔ علامہ طباطبائیؒ کی اخلاقی تربیتی کتب کا تعارف

۶۔ آیت اللہ اعرافی کی اخلاقی تربیتی کتب کا تعارف

۷۔ نراقیین ؒکی اخلاقی تربیتی کتب کا تعارف

8. امام خمینیؒ کی اخلاقی تربیتی کتب کا تعارف

9. شیعہ اخلاقی  تربیتی شخصیات

۱۰۔ عالم تشیع کے اخلاقی اور تربیتی مراکز اور انسٹیٹوٹس

۱۱۔ دور حاضر میں شیعہ علماء کی اخلاقی سرگرمیاں(علمی مراکز، مضامین، میگزینز،  سائٹس وغیرہ)

 

8.  طبیعیات

الف) موضوعات

 

۱۔ شیعہ ماہرین حیاتیات( طبیعیات)۔

۲۔علمی   آلات کی تکمیل میں شیعہ کا کردار(میڈیکل آلات، معائنہ کے  آلات ، رصدگاہیں و۔۔۔)

۳۔ طبیعیات کے دائرے میں نظریہ سازی اور  جدیدسائنسی نظریات اور  کشفیات  میں شیعہ کا کردار

۴۔سائنسی انسائیکلوپیڈیا اورکتب کی تدوین  میں شیعہ کا کردار

۵۔طبیعیات میں رائج علمی نظریات کی اصلاح میں شیعہ کا کردار

۶۔ علمی مراکز اور عمارتوں کی تعمیر  میں شیعہ کا کردار(ہسپتال،  لائبریریاں و۔۔۔۔)

۷۔ علمی  آیات کی تفسیر اور تشریح میں شیعہ کا کردار

۸۔ علمی  احادیث کی   درجہ بندی اور تشریح میں شیعہ  کاکردار

۹۔ طبیعیات میں  کارآمد سائنسی سرگرمیوں میں شیعہ کا کردار(سائٹس،  سوفٹ وئیرز وغیرہ۔)

ب) خاص موضوعات
اول) علم طب

 

1ـعلم طب  کی ترویج میں  اهل‌بیت(علیهم السلام) کاکردار

۲۔ اسلامی طب کی ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

 3.شیعہ دانشور اور  میڈیکل ایجادات

۴۔  فقہی طب میں شیعہ فقہاء کی ایجادات

۵۔اہل بیتؑ کی احادیث میں علمی عجائب اور علمی معجزات

۶۔ میڈیکل اخلاق میں شیعہ  کاکردار

۷۔فارمیسی کی ترویج میں شیعہ  دانشوروں کاکردار

دوم) نجوم

۱۔علم نجوم کی ترویج میں اہل بیتؑ کا کردار

۲۔ نجوم کی وسعت  میں شیعہ علماء کا کردار

۳۔ جدیدنجومی مصنوعات میں شیعہ علماء کا کردار( قبلہ کی بحث اور بطلیموسی ہیئت کی اصلاح میں اس کے اثرات)۔

4۔نجومی مسائل میں  شیعہ فقہاء  کی ایجادات ( خلاء اور قطب میں  نماز کے مسائل و۔۔۔)

5. اہل بیتؑ کی نجومی احادیث میں علمی معجزات

۶۔اوقات کے سلسلے میں شیعہ علماء کاکردار( شرعی اوقات، جنتری و۔۔۔)

سوم) علم ریاضی (حساب اور هندسه)

علم ریاضی کی ترویج اور وسعتمیں شیعہ  دانشوروں کا کردار

چہارم) کیمسٹری (کیمیا)

کیمسٹریکی ترویج اور وسعت میں شیعہ دانشوروںکا کردار

 

پنجم) جغرافیہ

جغرافیہ کی ترویج اور وسعت میں شیعہ دانشوروں  کا کردار

ششم) جدید علوم اور معاصر شیعہ دانشور

۱۔  سائنس میں شیعہ کا کردار(جوہری، نینو،  خلائی سفر، سائبر پلیس  و۔۔۔)

2. معاصر شیعہ مشہور دانشور( میڈیکل، انجنیرنگ، نجوم و۔۔۔)

نوٹ:   اس موضوع  پر   چندمقالات    مختلف زبانوں میں  لکھے جاسکتے ہیں(ایران، برصغیر،دنیائے عرب، یورپ)۔

۳۔ دورحاضر میں شیعہ دانشورں کی طبیعیات کے سلسلے میں سرگرمیاں (علمی مراکز، مضامین، سائٹس وغیرہ)

ج) تالیف کتب کے لیے تجویز کردہ موضوعات

۱۔ شیعہ طبیب اور ان کے علمی آثار(کتب، دوائیاں، ہسپتال وغیرہ)۔

۲۔ شیعہ مشہور منجمین اور ان کے نجومی آثار(کتب، آلات، )

۳۔ مشہور شیعہ   ریاضی دان ، ماہر  ین جغرافیہ

9. ادبی علوم

 

 

۸۔ علم  ادب   کی  تجزیہ و تحلیل میں شیعہ ماہرین  ،   مؤثر شخصیات   اور  جدید نظریات  

۹۔ فارسی ادب کے شیعہ ادیب اور ان کی  ادبی کتب

۱۰۔ اردو  ادب کے شیعہ ادیب اور ان کی ادبی کتب(علاقائی مطالعات کمیٹی)۔

۱۱۔ شیعہ ادبی سرگرمیاں(مراکز، مضامین، سوفٹ وئیرز)

10. مستشرقن

الف) عام موضوعات

۱۔ مستشرقین کی نگاہ  میں مختلف اسلامی علوم کی ترویج میں اہل بیتؑ کا کردار

۲۔ مستشرقین کی نگاہ  میں مختلف اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

ب) خاص موضوعات

۱۔مستشرقین کی نگاہ سےنہج البلاغہ میں اسلامی علوم کا مقام

۲۔ہنری کاربن  کی نگاہ سے اسلامی علم عرفان کی ترویج میں شیعہ کا کردار

۳۔ امام علیؑ کے ادبی  آثار جرجی زیدان کی نظر میںٍ

۴۔مستشرقین کی نگاہ سےکمیسٹری کی ترویج میں امام صادق ؑ کا کردار(جابر بن حیان کی تربیت)

۵۔مستشرقین کی نگاہ سے دینی مراکز کی فن تعمیر میں شیعہ علماء کا کردار(بالخصوص مساجد)

۶۔استعماری مخالف تحریکوں کی  ترویج اور سیاسی میدان   میں شیعہ کردار

۷۔اسلامی تہذیب اور علوم کے بارے گوسٹاو لوبن  کے نظریات  کا جائزہ

۸۔سید بن طاووس اور اصول اربعماۃ کے بارے اٹان کلبرگ  کی تحقیق کا جائزہ

۹۔نجوم کی ترویج میں شیعہ علماء کے کردار بارے  مستشرقین کی آراء

۱۰۔مستشرقین کی نظر   میں اسلامی علوم کی  وسعت میں امام صادقؑ کا کردار

۱۱۔ مستشرقین کی نظر میں اسلامی علوم کی  ترویج میں شیعہ قدیمی مصادر و مآخذ کا کردار

۱۲۔ علم رجال کی ترویج میں شیعہ علماء کے کردار بارے  مستشرقین کی آراء

۱۳۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں سید بن طاووس کا کردار

۱۴۔ جہاد   بارے   شیعہ عقائید  کاجائزہ مستشرقین کی نظر میں

 15. مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں فضل بن شاذان  کا کردار

۱۶۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں اسلامی انقلاب  کا کردار

17. مستشرقین کی نگاہ سے اسلامی علوم کی ترویج میں امام باقرؑ  کی تعلیمات

 

۱۸۔ مستشرقین کی نگاہ سےسیاسی اسلام کے افکارکی  احیاء میں اما م خمینیؒ کا کردار

۱۹۔ مستشرقین کی نگاہ سے قم کے علمی مکتب کا کردار

20. مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں شیخ کلینی   کا کردار

۲۱۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں علامہ مجلسی  کا کردار

۲۲۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں صحیفہ سجادیہ  کا کردار

۲۳۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں شیخ طوسی  کا کردار

۲۴۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں شیخ صدوق  کا کردار

۲۵۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم  میں امامیہ علم کلام کی عکاسی

۲۶۔ مستشرقین کی نگاہ سے صفویہ حکومت کے دوران،  جبل عامل کے علماء کی ہجرت کا اسلامی علوم کی ترویج میں کردار

۲۷۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں صفوی حکومت   کا کردار

۲۸۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں آل بویہ حکومت   کا کردار

۲۹۔ مستشرقین کی نگاہ سے   ثقافت عاشورا کی بنیاد پرسیاسی   افکار کی ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

30۔  اسرائیل میں شیعہ کانفرنس  کے مقالات کا جائزہ

۳۱۔ مستشرقین کی نگاہ سےاسلامی علوم کی ترویج میں افکار امام خمینیؒ  کا کردار

۳۲۔ اسلامی علوم کی ترویج ا ور ارتقاء میں شیعہ مراجع کےسیاسی مذہبی کردار بارے میشل فوکو کے نظریات کا جائزہ

۳۳۔اسلامی علوم کے سٹرکچر کے بارے مستشرقین  کےنقطہ نظریات کا   جائزہ ( خاص کرشیعہ علماء کا کردار )

۳۴۔اسلامی علوم اور  شیعہ   مذہب بارے میں مستشرقین   کا اسلوب مطالعہ  

۳۵۔ مستشرقین کی نگاہ  سےادبی علوم کی ترویج میں اہل بیتؑ کے اشعار اور ادبی آثار  کا کردار

۳۶۔ادبی علوم میں شیعہ کا کردار(الکسینڈر ڈیکنیش)

۳۷۔  مستشرقین کی نگاہ  سےعلم  عرفان کی ترویج میں اسماعیلی شیعہ  کا کردار

38۔ مستشرقین( جیسے:کلوڈ، جیلیو، ویلینٹ، میخائیل، بار آشر، جون برتون )کی نگاہ  سےعلوم کی ترویج میں شیعہ مفسرین کا کردار

۳۹۔ تفسیری اسلوب کی ترویج میں شیعہ مفسرین کا کردار مستشرقین کی نظر میں( جیسے:کلوڈ، جیلیو، بارشر )

۴۰۔  تاریخ  تفسیر میں شیعہ علماء کا کردار مستشرقین کی نظر میں (کلوڈ، جیلیو)

۴۱۔مستشرقین (ریچارڈ، سی مارٹین)کی نگاہ سے قرآنی اعجاز کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت اور ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۴۲۔ مستشرقین (انڈرو ریپین)کی نگاہ سے اسباب نزول کی ترویج میں شیعہ کردار

۴۳۔ مستشرقین کی نگاہ سے  تاریخ   قرآن کی ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۴۴۔نظریہ عدم تحریف قرآن کی  تشریح اور  ترویج     کے بارے میں شیعہ  کردار مستشرقین کی نظر میں (اٹان کلبرگ)

۴۵۔ مستشرقین کی نگاہ سے علم فقہ کی ترویج  میں شیعہ علماء کا کردار

۴۶۔ مستشرقین کی نگاہ سے شیعہ علم فقہ کی ترویج  میں امام صادق ؑ کا کردار

۴۷۔ مستشرقین کی نگاہ سے شیعہ علم فقہ کی ترویج  میں امام باقر ؑ کا کردار

۴۹۔ مستشرقین (ماڈرلونگ)کی نگاہ سے اسلامی علوم میں  شیعہ علم کلام کی عکاسی  کا جائزہ

۵۰۔مارٹین مک ڈرموٹ  کا ’’شیخ مفید کے کلامی افکار‘‘نامی   کتا ب کا  تجزیہ و تحلیل

۵۱۔ مستشرقین کی نگاہ سے   علم کلام میں شیخ مفید کے کلامی افکار کی عکاسی  کا جائزہ

۵۲۔ مستشرقین کی نگاہ سے   علم کلام میں علامہ حلی کے کلامی افکار کی عکاسی  کا جائزہ

۵۳۔ مستشرقین کی نگاہ سے   علم کلام میں  خواجہ نصیر الدین  طوسی کے کلامی افکار کی عکاسی  کا جائزہ

۵۴۔مستشرقین کی نگاہ سے   اسلامی فلاسفہ کی ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۵۵۔ مستشرقین کی نگاہ سے   اسلامی فلاسفہ کی ترویج میں ابن سینا کا کردار

۵۶۔ مستشرقین کی نگاہ سے   اسلامی فلاسفہ کی ترویج میں ملاصدرا کا کردار

۵۷۔ مستشرقین کی نگاہ سے   اسلامی فلاسفہ کی ترویج میں فارابی کا کردار

۵۸۔ مستشرقین( اولیک گرابار) کی نگاہ سے   اسلامی  فن تعمیر  کی ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۵۹۔ مستشرقین کی نگاہ سے   اسلامی تہذیب و ثقافت کی ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۶۰۔اسلامی تہذیب و تمدن کے بارے میں’’ ولیری ‘‘ کے نظریات کا تجزیہ و تحلیل

6۱.اسلامی فن تعمیر اور صنعت ہنر کی ترویج میں  حکومت فاطمیون  کا کردار

۶۲۔ انسائکلیوپیڈیا آف اسلام میں اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۶۳۔ انسائکلیوپیڈیا آف اسلام میں  عقلی  علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۶۴۔ انسائکلیوپیڈیا آف اسلام میں ادبی  علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۶۵۔ انسائکلیوپیڈیا آف اسلام میں دوسرے اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۶۶۔انسائکلیوپیڈیا آف  اولیورلیمن میں اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۶۷۔ لائیڈن انسائکلیوپیڈیا   میں اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۶۸۔ آمریکانا انسائکلیوپیڈیا   میں اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۶۹۔بریتانیکا انسائکلیوپیڈیا میں اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۷۰۔ انسائکلیوپیڈیا آف  دین میں اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ دانشوروں کا کردار

۷۱۔ مستشرقین کی شیعہ  شناسی سرگرمیاں(مراکز، شخصیات، مضامین)

۷۲۔ مستشرقین کی نگاہ سےشیعہ اسلامی علوم کے مصادر( کلبرگ کے بقول:اصول اربعماۃ  ، اور دوسرے کتب حدیث اور تفسیری مصادر)۔

۷۳۔ شیعہ علماء مستشرقین کی نگاہ سے( علامہ حلی  ، اشمیٹکہ خاتون کی نگاہ سے، آیت اللہ خوئی اولیورلیمن  صاحب کی نگاہ سے)۔

11. ہیومنٹیز

1. ہیومنٹیز کے مبانی  اور اہداف کی  اصلاح   میں اہل بیتؑ کا کردار

۲۔ ہیومنٹیز کے مبانی  اور اہداف کی   اصلاح  میں شیعہ علماء کا کردار

۳۔ہیومنٹیز میں شیعہ دانشورں کی ایجادات اور جدید نظریات

۴۔ہیومنٹیز میں  شیعہ  نظریہ ساز ی

۵۔ ہیومنٹیز میں شیعہ علماء کے کردار بارے  موجود مصادر  کی  شناخت

۶۔  ہیومنٹیز کی صورتحال( اقتصادیات، سماجیات، سیاسیات وغیرہ)

۷۔ ہیومنٹیز  کا آغاز اور ارتقاء

۸۔غیر شیعہ دانشوروں کی  نگاہ میں شیعہ امت میں ہیومنٹیز کی صورتحال   

۹۔ ہیومنٹیز کے مسائل اور موضوعات

۱۰۔  ہیومنٹیز میں شیعہ مبانی اور مبادی

۱۱۔  شیعہ علماء اور ہیومنٹیز کی اسلوب شناسی

۱۲۔ ہیومنٹیز کے اثرات

۱۳۔ یورپین ہیومنٹیز اور اہل سنت ہیومنٹیز کا تقابلی جائزہ

۱۴۔ ہیومنٹیز میں شیعہ ایجادات اور جدید نظریات (رپورٹس ، نظریات اور مکاتب )

۱۵۔ اداراتی اور منیجمنٹ علم کے اغراض و مقاصد اور مبادی  کی اصلاح میں اہل بیتؑ کا کردار

۱۶۔ سوشل سائنس  کے اغراض و مقاصد اور مبادی کی اصلاح  میں اہل بیتؑ کا کردار

17. سیاسیات کے اغراض و مقاصد اور مبادی کی اصلاح میں اہل بیتؑ کا کردار

18. شعبہمنیجمنٹ کے  مشہور شیعہ  علماء کا تعارف

۱۹۔شعبہ سماجیات کے مشہور شیعہ  علماء کا تعارف

۲۰۔ شعبہ سیاسیات کے مشہور شیعہ  علماء کا تعارف

۲۱۔دوسرے مکاتب پرشیعہ منیجمنٹ کی مطالعاتی افادیت

۲۲۔ دوسرےمکاتب پرشیعہ سماجیات کی مطالعاتی افادیت

۲۳۔ دوسرےمکاتب پرشیعہ سیاسیات کی مطالعاتی افادیت

۲۴۔ دوسروں کی نسبت   شیعہ  علماء  کی منیجمنٹ مطالعاتی افادیت

۲۵۔ دوسروں کی نسبت شیعہ  علماء  کی  سماجیاتی  مطالعاتی افادیت

۲۶۔ دوسروں پرشیعہ  علماء  کے سیاسی  مطالعات کے اثرات

۲۷۔ شیعہ علماء کے ابتدائی سماجی مطالعات  کی شناخت

۲۸۔ شیعہ علماء کے   ابتدائی سیاسی مطالعات کی شناخت

۲۹۔ شیعہ علماء کے سیاسی مطالعات کی  شناخت(مکاتب وغیرہ )۔

30. شیعہ علماء کے سماجی مطالعات کی   شناخت(مکاتب وغیرہ)۔

31.علمی مراکز   کی منجمینٹ میں شیعہ علماء کا  مقام

32. شیعہ علماء کےسماجی مطالعات دوسرے مکاتب فکر کے  علماء کی نظر میں

۳۳۔  شیعہ علماء کے سیاسی مطالعات دوسر ےمکاتب فکر کے علماء کی  نظر میں

۳۴۔ نظام تعلیم میں شیعہ علماء کا کردار

۳۵۔مینجمنٹ مطالعات کی پیدائش ، ترویج  اور اس کے مبانی و مبادی  کی تبدیلی میں شیعہ علماء کاکردار

۳۶۔ مینجمنٹ  مطالعات کی پیدائش ، ترویج  اور اس کے اسلوب کی تبدیلی میں شیعہ علماء کاکردار

۳۷۔ مینجمنٹ مطالعات کی پیدائش ، ترویج  اور اس کے مبانی و مبادی  کی تبدیلی میں شیعہ علماء کاکردار

۳۸۔سیاسیات  کی پیدائش ، ترویج  اور  مطالعات سیاسی کے تبدیلی  اسلوب   میں شیعہ علماء کاکردار

۳۹۔سیاسیات کی پیدائش ، ترویج  اور اس کے مبادی   اور اصول کی تبدیلی میں شیعہ علماء کاکردار

۴۰۔سیاسیات کی پیدائش ، ترویج  اور اس کے  نظام کی درجہ بندی  میں شیعہ علماء کاکردار

۴۱۔سیاسیات  کی پیدائش ، ترویج  اور سیاسی  افکار  کی پیدائش  میں شیعہ علماء کاکردار

۴۲۔مختلف سیاسی مکاتب  کی پیدائش ، ترویج  اور اس کے مبانی و مبادی  کی تبدیلی میں شیعہ علماء کاکردار

۴۳۔عمرانیات کی پیدائش ، ترویج اور  رشد میں شیعہ علماء کاکردار:

الف) عمرانیات کے مبادی اور اصول

ب) عمرانیات کے اسلوب

ج) عمرانیات کا نظام

و) عمرانیات میں نظریہ سازی

ھ) عمرانی مکاتب کی پیدائش

45.دورحاضر کے شیعہ علماء اور ان کے ہیومنٹیز سرگرمیاں(علمی مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس۔۔۔)

12.علاقائی مطالعات

الف) برصغیر
 ۱۔برصغیر میں اہل بیتؑ کا کردار( احادیث،  راویان)

۲ ۔ بر صغیر میں اسلامی علوم کی ترویج میں  سادات کا کردار

۳۔ بر صغیر میں اسلامی علوم کی ترویج میں  مہاجر علماء کا کردار

۴۔برصغیر میں  شعبہ قرآنیات (تفسیر، قرآنی علوم، ترجمہ قرآن وغیرہ) میں شیعہ علماءکاکردار

۵. بر صغیر کے مترجمین اور ان کے تراجم کا تعارف( اردو، ہندی، سندھی، پشتو وغیرہ)

۶۔ بر صغیر کے مفسرین اور ان کی تفاسیر کا تعارف( اردو، ہندی، سندھی، پشتو وغیرہ)

۷۔برصغیر کے قرآنی علوم کے  علماء کا تعارف

۸۔  اسلوب ترجمہ کی ترویج اور ارتقاء  میں بر صغیر کے  شیعہ علماء کا کردار

۹۔ قرآنی تفسیر ی اسلوب و رجحانات کی ترویج اور ارتقاء  میں بر صغیر کے  شیعہ مفسرین کا کردار

۱۰۔قرآن کے منظوم   تراجم میں شیعہ علماء کا کردار

۱۱۔اردو زبان میں علم تفسیر کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۱۲۔موضوعی تفاسیر کی تدوین میں شیعہ علماء کا کردار

۱۳۔ برصغیر میں تفسیری مباحث  کی ترویج میں تفسیر نمونہ کا کردار

۱۴۔عربی سے اردو اور فارسی  تراجم کا تعارف

۱۵۔برصغیر کے اہم مفسرین اور ان کی تفاسیر کا تعارف: سید ابو القاسم حائری، سید علی حائری(  لوامع التنزیل)سید علی بن دلدار علی غفران مآب ( توضیح المجید فی کلام اللہ المجید) ، سید علی نقی نقوی( تفسیرفصل الخطاب)، سید عمار علی سونی پتی( عمدۃ البیان)، محمد حزین لاهیجی (تفسیر لاهیجی)، سید راحت حسین گوپال پوری (تفسیر انوار القرآن)، ابوالفیض فیضی دکنی (تفسیر سواطع الالهام)، غلام‌حسین جارا (تفسیر انوار النجف فی اسرار المصحف)، محمدحسین نجفی (تفسیر فیضان الرحمن فی تفسیر القرآن)، شیخ محسن علی نجفی (تفسیر الکوثر فی تفسیر القرآن)۔

۱۶۔برصغیر کے قرآنی حفاظ اور قاریان کا تعارف

۱۷۔قرآنی ثقافت کی ترویج میں برصغیر کے حفاظ  اور قاریان کا کردار

۱۸۔ قرآنی دانشوروں کا برصغیر میں کردار، ذیشان حیدر جوادی (مؤلف تفسیر  و ترجمہ قرآن و  نهج البلاغه) ـ حزین لاهیجی ـ  سید محمد تقی(  مؤلفینابیع الانوار)۔

۱۹۔برصغیر کے محدثین اور احادیث کا تعارف

۲۰۔ برصغیر کے فقہ الحدیث کے اسلوب کا تعارف

۲۱۔برصغیر  سے تعلق رکھنے والے  احادیث کے راوی

۲۲۔برصغیر کےعلم حدیث کے علماء کا تعارف  اور کردار (فقه الحدیث اور دراية الحدیث)

۲۳۔علم حدیث کی ترویج اور وسعت میں  شیعہ علماء کا کردار

۲۴۔ علم حدیث کی اہم شخصیات اور اہم کتب کا تعارف، جیسے: میر حامد حسین ( عبقات الانوار) ـ سید دلدار علی (روضة المتقين) ـ شیخ محمد حسین نجفی (وسائل الشیعه و وافی فیض کاشانی کا اردو ترجمہ) ـ حسن امروهی (شرح و ترجمة اصول کافی اردوترجمہ) ـ من لا یحضره الفقیه کا اردو ترجمہـ هارون زنگی پور( توحید الائمه) ـ ذیشان حیدر جوادی(ترجمه و شرح نهج‌البلاغه) ـ مفتی جعفر حسین (نهج البلاغهکا اردو ترجمہ) ـ ناصر حسین (سبائک الذهبان 44 مجلدات میں).

۲۵۔نہج البلاغہ کے  شارحین کا تعارف

۲۶۔صحیفہ سجادیہ کے  شارحین کا تعارف

۲۷۔  حدیث غدیرکے  شارحین کا تعارف

۲۸۔ احادیث امامت کے  شارحین کا تعارف

۲۹۔ عبقات الانوار(تحفه اثنی عشریه کے ساتویں باب  میں شیعہ پر جو اعتراضات  کئے  گئے ہیں اس کے جواب میں یہ کتاب لکھی گئی ہے).

30. برصغیر میں علم کلام کی ترویج میں شیعہ متکلمین کا کردار

۳۱۔برصغیر کے مشہور متکلمین کا تعارف. شخصیات اور علم کلام کے ماہر خاندان ،جیسے: علامہ محمد حسین نجفی ـ سید علی اصغر کجوی (علم کلام میں ۸۰موضوعات  اس خاندان نے اختراع کیا ہے ) ـ غلام‌حسین نجفی ـ علامه رئیس الواعظین سید کرار حسین رضوی (علم کلام پر ۵۰ جلد کتاب کے مصنف) ـ حشمت الله خیر ا.. پوری ـ  حافظ علی محمد و امیر حکیم الدین (فلک النجاه  فی الامامۃ و الصلواۃ) ـ مولانا محمد اسماعیل دیوبندی ـ مولانا حافظ سیف الله

ب) افغانستان

۱۔افغانستان میں اہل بیتؑ کی علمی مرجعیت

۲۔ افغانستان میں اسلامی علوم کی پیدائش اور ترویج میں اہل بیت ؑ کے اصحاب کا کردار۔

۳۔ مرو  کے علاقہ میں امام رضاؑ  کی موجودگی اور اس کے علمی ثقافتی اثرات

۴۔اہل بیتؑ کےافغانی اصحاب اور تابعین

۵۔  شعبہ قرآنیات میں افغانی شیعہ علماء کا کردار

۶۔ شعبہ حدیث میں افغانی شیعہ علماء کا کردار(رجال، درایه، فقه الحدیث، تاریخ حدیث، نقد الحدیث)

۷۔ افغانی شیعہ راویان حدیث اور علوم حدیث میں ان کا کردار

۸۔پانچویں صدی تک بلخ  میں قائم  محافل حدیث

۹۔شیعہ محدثین کی   تالیفات

۱۰۔ افغانی شیعہ محدثین اور دوسرے علاقوں کے شیعہ محدثین کے باہمی روابط(بغداد، قم، ماوراءالنهر وغیرہ)۔

۱۱۔ علم حدیث کی ترویج میں شیعہ  اماموں کے اصحاب کا کردار، بلخ، کابل، ہرات تک

۱۲۔بلخ میں چار سال شیخ صدوق کی موجودگی(عوامل، پس منظر، اساتذہ، شاگرد، علمی ثقافتی سرگرمیاں)

۱۳۔ فقہ و  اصول کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۱۴۔ علم کلام کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۱۵۔ ادبی علوم کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۱۶۔ فلاسفہ کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۱۷۔ منطق کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۱۸۔ اخلاقیات اور تربیت کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۱۹۔ عرفان و تصوف کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۲۰۔علم تاریخ  کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۲۱۔علم نجوم کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۲۲۔علم طب  کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۲۳۔ علم ریاضی کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۲۴۔ جغرافیہ کے شعبے میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۲۵۔ ہیومنٹیز میں شیعہ افغانی علماء کا کردار

۲۶۔ بلخ کا کلامی فلسفی مکتب، (ابو زید بلخی، نظّام بلخی، شهید  بلخی ابوالحسن شهید بن حسین جهوادنكی بلخی ابوالجیش مظفر بلخی  و۔۔۔)

۲۷۔ تیموری دور حکومت  میں اسلامی علوم کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۲۸۔غزنوی دور حکومت  میں اسلامی علوم کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۲۹۔ دور حاضر میں اسلامی علوم کی پیدائش اور ترویج میں شیعہ علماء کا کردار

۳۰۔ افغانی شیعوں کی خاص  آثار و عمارتیں

۳۱۔ ہنر ، ادب اور فن تعمیر میں افغانی شیعوں کا کردار

۳۲۔ علم، ثقافت اور تہذیب کی ترویج میں بلخ کے شیعوں کا کردار

۳۳۔ علم، ثقافت اور تہذیب کی  ترویج    میں ہرات کے شیعوں کا کردار

۳۴۔ علم، ثقافت اور تہذیب   کی ترویج میں  غزنی کے شیعوں کا کردار

۳۵۔ علم، ثقافت اور تہذیب کی ترویج  میں کابل کے شیعوں کا کردار

۳۶۔ علم، ثقافت اور تہذیب کی ترویج  میں  بُست کے شیعوں کا کردار

۳۷۔ فارسی اشعار کی ترویج میں  افغانی شیعہ شاعروں کا کردار

۳۸۔اسلامی علوم اور تعلیمات کی ترویج میں شیعہ میڈیا  کاکردار

۳۹۔ اسلامی علوم اور تعلیمات کی ترویج  اور تحفظ میں شیعہ ذاکرین  کا کردار

۴۰۔ شیعہ فرقوں کااسلامی علوم کی ترویج   میں تاثیر

۴۱۔شیعہ مجاہد علماء کااستعماری اور انحرافی فرقوں  سے مقابلہ  میں کردار

۴۲۔افغانستان کے دینی مدارس اور ثقافتی مراکز

۴۳۔اسلامی علوم کی ترویج میں شیعہ خواتین کا کردار

۴۴۔دوسرےممالک میں اسلامی  علوم کی ترویج میں  شیعہ مہاجر علماء کا کردار

۴۵۔افغانی مشہور   ہنرمندان(خطاط، نقاش)

۴۶۔نجف کے دینی مدارس میں افغانی شیعہ علماء کا کردار

۴۷۔ قم کے دینی مدارس میں افغانی شیعہ علماء کا کردار

۴۸۔ مشہدکے دینی مدارس میں افغانی شیعہ علماء کا کردار

۴۹۔دمشق کے دینی مدارس میں افغانی شیعہ علماء کا کردار

۵۰۔علمی مراکز کی تعمیر میں افغانی شیعہ علماء کا کردار

۵۱۔ افغانستان کی بعض علمی شخصیات کا تعارف:ابوخالد كابلی کا اسلامی علوم میں کردار ـ اباصلت هروی ـ ریان بن صلت هروی ـ نصر بن صباح بلخی اور اسلامی علوم کی ترویج ـ احمد بن سهل ابوزید بلخی ـ ابوزید احمد بن سهل بلخی (متوفی تقریبا ۳۲۲ ہجری) جغرافیہ اور  علم ریاضی کے ماہر ـ مقاتل بن سلیمان بلخی(مفسر) ـ ابوالقاسم كعبی بلخی (مفسر اور تفسیری کتب کے مؤلف) ـ احمد بن سهل ابوزید بلخی (فلاسفراور مفسر) ـ ابوشقیق بلخی (ماہر علم عرفان)  مصباح الشریعه و مفتاح الحقیقه  کے مصنف ـ ابوالقاسم ضحاك مزاحم بلخی (مفسر اور امام سجادؑ کے صحابی ـ امیرحسین غوری هروی( ماہر علم عرفان) ـ معین الدین فراهی هروی (حدائق الحقایق فی كشف الاسرار و       الدقائق کے مؤلف) ـ ملا موسی هزاره (مؤلف كشف الایات) ـ محمد كاظم قاری قندهاری (قرآنی علوم) ـ ابوالمحاسن حسین بن حسن جرجانی ( مؤلف تفسیر گازر  (جلاء الاذهان...) ـ ابوریحان بیرونی کی شخصیت اور کتب ـ علامه حیدرقلی‌خان سردار كابلی کی شخصیت اور کتب(منجم و ماہر  علم ریاضی‌) ـ آیت‌الله العظمی فیاض کی شخصیت اور کتب(فقیه و اصولی شخصیت) ـ سید جمال الدین افغانی کا اسلامی علوم میں کردار ـ فیض محمد كاتب  کی شخصیت اور کتب(ماہر علم تاریخ) ـ علامه مدرس افغانی کی شخصیت اور کتب(ادیب) ـ سید سرور واعظ کی شخصیت اور کتب ( مصباح الاصو ل کے  مؤلف) ـ آخوند خراسانی کی شخصیت اور کتب(صاحب كفایه الاصول) ـ آیت‌الله محمدی بامیانی کی شخصیت اور کتب (ماہر علم فقه و اصول) ـ آیت‌الله محسنی کی شخصیت اور کتب

۵۲۔  وحدت کا تحفظ اور استعمار مخالفت میں شیعہ علماءکی سرگرمیاں

ج) سوڈان

۱۔سوڈان میں اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیاد میں شیعہ کا کردار

۲۔ سوڈانی لائبریری میں موجود شیعہ قلمی نسخوں کا تعارف

۳۔ سوڈان کے موجودہ شیعہ علماء کا تعارف

د) آذربائیجان

1. شیخ صدرا بادکوبه‌ای (فلاسفہ اورعلم کلام کے بارے میں قلمی نسخوں کے مؤلف)

2. آذربائیجانی   شیعہ علمی شخصیات کا تعارف ، جیسے سید حسین بادکوبه‌ای (فلسفه اور علم کلام ، فقه اور اصول    کے ماہر) ـ آیت‌الله محمدحسین غروی اصفهانی(کمپانی) ـ آیت‌الله محمد امین بادکوبه‌ای ـ آیت‌الله عبدالکریم بادکوبه‌ای

3. طبیعیات کے شعبہ میں آذربائیجانی شیعہ علماء کا کردار

ـ علم طب : شیخ الاسالم حکیم‌زادة ـ آیت‌الله شیخ علی بادکوبه‌ای

ـ فیزیکس، ریاضیات، نجوم: سید حسین میر موسم زاده

ـ عمرانیات: میرزا محمد رحیم بادکوبه‌ای (کتاب عزت دیروز ذلت امروز)

ـ جغرافیہ: عبدالرشید ابن صالح بادکوبه‌ای (تلخیص الآثار)

4. آذربائیجانی شہید علماء

5. آذربائیجانی علمی اور ثقافتی مراکز

ه‍‌): مراکش

مراکشی شیعہ شخصیات کا تعارف جیسے: ابوعبد‌الله شیعی ( شیعہ عالم دین  اور الجزائر میں  فاطمی حکومت کی بنیاد رکھنے والی شخصیت) ـ ان کے بیٹا معزالدین  نے مصر  میں حکومت فاطمیون کی بنیاد رکھی ـ البونی (ساتویں صدی) الشمس المعارف الکبری در علوم غریبه  کے مؤلف ـ سید عبدالعزیزاحمد بن صدیق الحسنی الغماری المغربی ـ  عبدالقادر (عارف ا و رمجتهد)۔

و) لبنان

۱۔ علوم اسلامی کی پیدائش، ترویج اور تحفظ میں  شیعہ علماء کاکردار

۲۔  شیعہ علماء کی جد و جہد(انحرافات، سیاسیات، استعمار مخالفت، فرقے)

۳۔لبنان کے شیعہ علماء کے علمی  آثار

۴۔لبنانی شیعہ دینی مدارس

۵۔لبنانی شیعہ دانشور خواتین  کا کردار

۶۔شیعہ مہاجر علماء کا کردار( لبنان سے دوسر ےعلاقوں کی طرف ہجرت اور برعکس)

۷۔ لبنان کے شہید علماء

۸۔لبنان میں صحابہ اور تابعین

۹۔شیعہ علمی۔ ثقافتی مراکز(لائبریریاں، تحقیقی مراکز، یونیورسٹیز، انسٹیٹوٹس اور نشریات)، سائبری سرگرمیاں  اور میگزینز

نوٹ:  دوسرےاسلامی  ممالک  (بحرین، سعودی عربیہ، کویت و۔۔) اور غیر اسلامی ممالک(سپین، انگلینڈ و۔۔۔) میں بھی اسی قسم کی موضوعات پر مقالات لکھئے  جاسکتے ہیں۔

 

13. احیائے آثار

الف) موضوعات

ایران میں موجود شیعہ قلمی نسخے

ہندوستان میں موجود شیعہ قلمی  نسخے

پاکستان میں موجود شیعہ قلمی نسخے

عراق میں موجود شیعہ قلمی نسخے

 یورپ اور امریکہ  کی لائبریریوں میں موجود شیعہ  قلمی نسخے

 دوسرے ممالک میں موجود شیعہ قلمی نسخے

ب)  احیاء  اور اشاعت کے قابل خاص  کتب

1. بَرِّ صغیر کے  اردو مطبوعات (اردو زبان میں اشاعت شدہ 6500 شیعہ کتب ـمؤلف: سید حسین عارف نقوی ـمرکز احیائے  آثار بَرِّ صغیر )

2. مطلع الانوار(برصغیرکے شیعہ علماء کی سوانح حیات  ، ناشر: مؤسسہ کتاب‌شناسی)

3. تذکره بی بها (برصغیر کے شیعہ علماء کی سوانح حیات)

4. تکمله و تکمله نجوم السماء، مؤلف : میرزا محمد مهدی لکھنوی کشمیری)

5. الشيعة الامامیه و نشئة العلوم الاسلامیه

6.  تاریخ  شیعیان ہند(علمی سرگرمیاں ـ  مؤلف: اطهر عباس  رضوی)

7. تذکره مجید (قاضی نور الله  کی سوانح حیات ـ اردو اور انگلش)

8. سوانح قاسمی (سید ابوالقاسم لاهوری کی سوانح حیات)

9. تذکره ناصر المله (ناصر حسین کی سوانح حیات)

۱۰. قول جلی فی احوال مفتی قلی (میر حامد حسین کے والد کی سوانح حیات)

11. تجلیات (میرزا محمد هادی لکھنوی کشمیری)

نوٹ:  اسلامی علوم   سے متعلق  قیمتی  آثار کے احیاء کے لیے  کانگریس ہر قسم کی تعاون کے لیے آمادہ ہے( لیکن اس شرط پر کہ شعبہ احیائے آثار، موضوعات  اور آثار کی منظوری دے دیں۔)

14. خواتین کمیٹی

۱۔اسلامی علوم کی ترویج میں حضرت زہراؑ کا کردار

۲۔پیغمبر اور اہل بیتؑ کے صحابیات کا اسلامی علوم کی ترویج میں کردار

۳۔انحرافات  کےمقابل شیعہ خواتین کا کردار

۴۔سیاسی  ، معاشرتی اور تہذیبی  تبدیلی میں شیعہ خواتین کا کردار

۵۔ شیعہ مفسر خواتین

۶۔ شیعہ محدث خواتین

۷۔ شیعہ متکلم خواتین

۸۔ شیعہ  فلاسفرخواتین

۹۔ شیعہ شہید دانشورخواتین

۱۰۔مختلف اسلامی علوم  کی ترویج میں شیعہ دانشور خواتین کا کردار

۱۱۔فیمینزم سے مقابلہ میں شیعہ خواتین کا کردار

۱۲۔دورحاضر میں شیعہ خواتین کی علمی سرگرمیاں( علمی مراکز، مضامین، میگزینز، سائٹس و۔۔۔۔)

۱۳۔ ہندوستان، پاکستان، عراق، افغانستان کی شیعہ خواتین

نظریه ارسال